ریسٹورنٹ میں نقصان اکثر مہنگے اجزاء یا کم سیل کی وجہ سے نہیں ہوتا،
بلکہ کچن کے اندر ہونے والی چھوٹی چھوٹی عادتوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ان میں سب سے بڑا کردار شیف کا ہوتا ہے۔
اگر شیف کی عادتیں درست نہ ہوں تو فوڈ ویسٹیج بڑھتا ہے اور منافع ختم ہو جاتا ہے۔
آئیے وہ 5 عادتیں سمجھتے ہیں جو ریسٹورنٹ کو خاموشی سے نقصان پہنچاتی ہیں۔
❌ عادت نمبر 1: اندازے سے کھانا بنانا
“اتنا ہی ڈال دو، ٹھیک ہو جائے گا”
یہ عادت:
- زیادہ quantity بنواتی ہے
- بچا ہوا کھانا ضائع ہوتا ہے
- cost control ختم ہو جاتا ہے
✅ حل:
ہر ڈش کے لیے واضح portion size اور پیمانہ مقرر کریں۔
❌ عادت نمبر 2: پرانا اسٹاک پہلے استعمال نہ کرنا
نیا سامان آتے ہی وہی استعمال شروع کر دینا
اور پرانا اسٹاک پیچھے پڑا رہنا
یہ:
- ایکسپائری کا سبب بنتا ہے
- خام مال ضائع ہوتا ہے
✅ حل:
FIFO سسٹم (پہلے آیا، پہلے استعمال) لازمی اپنائیں۔
❌ عادت نمبر 3: کچن SOP کو سنجیدہ نہ لینا
“یہ ہم روز ایسے ہی کرتے ہیں”
بغیر SOP:
- consistency ختم
- wastage بڑھتی ہے
- ہر شیف اپنا طریقہ چلاتا ہے
✅ حل:
کچن SOP کو تحریری شکل میں نافذ کریں۔
❌ عادت نمبر 4: ریجیکشن اور ریٹرن کا ریکارڈ نہ رکھنا
کس ڈش کا کھانا واپس آیا؟
کیوں آیا؟
کتنی بار آیا؟
یہ سوال اگر شیف نہ پوچھے تو:
- مسئلہ کبھی حل نہیں ہوتا
- ویسٹیج چلتی رہتی ہے
✅ حل:
ہر ریٹرن ڈش کا ریکارڈ رکھا جائے۔
❌ عادت نمبر 5: ٹیم کو ٹرین نہ کرنا
شیف خود تو ماہر ہوتا ہے
لیکن کچن ہیلپر اور جونیئر سٹاف بغیر تربیت کے کام کرتے ہیں
نتیجہ:
- غلط cutting
- غلط cooking
- زیادہ ضیاع
✅ حل:
ہفتہ وار مختصر کچن ٹریننگ لازمی ہو۔
⭐ نتیجہ
اچھا شیف صرف ذائقہ نہیں بناتا
وہ نفع بھی بناتا ہے۔
فوڈ ویسٹیج کنٹرول
اصل میں ریسٹورنٹ کی بقا ہے۔
.png)
